Poetry (Udru)


کتاب سادہ رھے گی کب تک ، کبھی تو آغاز باب ھوگا

جنہوں نے بستی اُجاڑ ڈالی ، کبھی تو اُنکا حساب ھوگا

سحر کی خوشیاں منانے والو ! سحر کے تیور بتارھے ھیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ھوگا

وہ دن گئے کہ جب ھر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چُپ تھے
اُٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئ تو پتھر اُسکا جواب ھوگا

سُکونِ صحرا میں بسنے والو ! ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو
جو آج کا دن سُکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ھوگا

 

cid:image001.jpg@01CBB4E5.9C5863E0

 

 

پاک وطن میں کیا کیا دیکھا


ہر سو گڑ بڑ جھالا دیکھا
سب کی دال میں کالا دیکھا
جو بھی غیرت والا دیکھا
اُ س کے منہ پر تالا دیکھا

دفتر اور مسائل دیکھے
میز پہ سڑتے فائل دیکھے
سب کرسی پہ مائل دیکھے
افسر حُور شمائل دیکھے

فرنیچر پر بِیٹ کو دیکھا
رشوت والی سیٹ کو دیکھا
سیٹ پہ بیٹھے ڈھیٹ کو دیکھا
قسمیں کھاتے چِیٹ کو دیکھا


کاریں اُنکی، ہُنڈے اُن کے
سوہنے سوہنے مُنڈے ان کے
تالے ان کے کُنڈے ان کے
عزت میری، غُنڈے ان کے

اُلٹا ہر مضمون کو دیکھا
عورت اور پتلون کو دیکھا
مردوں پر شیفون کو دیکھا
خان بنی خاتون کو دیکھا

بھنڈی نے اک دھکا مارا
آلو نے بھی مُکا مارا
سب نے اِکا دُکا مارا
تیر نہیں تو تُکا مارا

پاک وطن میں یہ کچھ دیکھا

Comment Box (Leave a Reply here)